:عالمی یومِ اساتذہ پر خصوصی گفتگو ضیاء الرحمن ثاقب صاحب
ضیاء الرحمن ثاقب ایک تجربہ کار تعلیمی ماہر ہیں، جو پچھلے 17 سال سے تدریس، اساتذہ کی تربیت (ٹیچر ٹریننگ)، اور امتحانی تشخیصی عمل سے وابستہ ہیں۔ وہ
اردو (M.Phil)
، تاریخ (M.A)
اسلامیات (M.A)
تعلیم (M.Ed)
میں اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں کے حامل ہیں۔ وہ ‘کنٹینیوس پروفیشنل ڈیولپمنٹ’ (CPD) پروگرام کے تحت بطور ڈسٹرکٹ ٹیچر ایجوکیٹر (DTE) اور ماسٹر ٹرینر اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ تدریس کے ساتھ ساتھ وہ اسکول کی انتظامی، ڈیجیٹل اور ادبی سرگرمیوں میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
سوال:1 ضیاء صاحب، آپ سنہ ۲۰۰۹ء سے شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اس طویل سفر میں آپ کو کس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا، اور ایک ابتدائی مدرس

کے طور پر آپ کا سب سے یادگار تجربہ کیا رہا؟
جواب:بہت شکریہ مس ثناء!آپ نے یوم اساتذہ کے اس اہم موقع پرمجھے تعلیم اور اساتذہ کے حوالے سے بات کرنے کاموقع فراہم کیا۔سب سے پہلے تو میں اس شعبہ تدریس سے وابستہ تمام اساتذہ کرام کوآج کے یوم اساتذہ پر مبارکباد دینا چاہوں گا اوران کوسلام عقیدت پیش کرنا چاہوں گا۔شعبہ تدریس بلاشبہ ایک ایسا شعبہ ہے جوآپ کو جہاں ہرروزنت نئے تجربات سے روشناس کراتا ہے وہیں آپ کی ذمہ داریوں کو بھی بڑھاتاچلاجاتاہے کیونکہ اساتذہ انبیاء کے وارث ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “انمابعثت معلما”..بےشک مجھے معلم بناکر بھیجاگیا۔۔میں جب شعبہ تدریس سے وابستہ ہواتومیرے ذہن میں یہ صرف ایک جاب کی طرح تھا مگر جوں جوں میں تدریسی فرائص اور خدمات سر انجام دیتاگیامجھ پر یہ رازآشکارہوتاگیاکہ یہ محض ایک جاب نہیں۔یہ نسلوں کو سنوارنے کی ایک کٹھن ذمہ داری ہے یہ دراصل ذہن سازی اور معاشرے کو ایک فعال اورذمہ دارفردتیارکرکے دینے کاایک اہم اورپیچیدہ ٹاسک ہے۔اس چیزنے مجھے بہت متاثر کیااورمیں نے کوشش کی کہ اپنے طلباء کو محض کورس نہ پڑھاؤں انہیں محنت،لگن،جستجو،حوصلہ،حب الوطنی،ادب اور اعلیٰ اقدار بھی سکھاؤں۔
اورآپ کےسوال کادوسراحصہ کہ میرایادگارتجربہ۔۔میں نے ابتدائی کلاسز کو بھی پڑھایا،بڑی کلاسز کوبھی اور ڈسٹرکٹ ٹیچرایجوکیٹر کے طورپراساتذہ کوبھی جدید تدریسی ٹولزسے آگاہ کیا۔اس سارے سفر میں بے شمار تجربات ہوئے مگر ابتدائی کلاسز کے بچے بالکل کورے کاغذ کی طرح ہوتے ہیں آپ اس کاغذپرجوکچھ لکھیں ،جوپینٹ کریں جو سکھائیں۔۔وہ سب ان کی شخصیت کا آہستہ آہستہ ایک مضبوط اور ناقابل تبدیل حصہ بنتاچلاجاتاہے۔بچہ آپ کی شخصیت،آپ کے بولنے کے طریقے آپ کے لائف سٹائل،یہاں تک کہ آپ کے لباس اور بالوں کے سٹائل تک کو کاپی کرنے کی کوشش کرتاہے۔۔ایسے میں آپ کی ذمہ داری بحیثیت معلم مذیدبڑھ جاتی ہے۔میں نےاپنے طلباء کوجوکچھ سکھایااس کو اپنے سامنے بچوں کی شخصیت کا اوران کے لائف سٹائل کا حصہ بنتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھنا ایک یادگار تجربہ ہے۔

سوال2: ضیاء صاحب، سال ۲۰۲۶ء کے اس جدید دور میں جہاں مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ بچوں کو ہر سوال کا جواب سیکنڈوں میں فراہم کر رہے ہیں، آپ کے خیال میں ایک انسانی استاد کی اہمیت کیوں برقرار ہے؟ کیا ٹیکنالوجی کبھی حقیقی استاد کا نعم البدل بن سکتی ہے؟
جواب: دیکھیں مس ثنا۔انسان روز بروز ترقی کی منازل طے کرہاہے۔اسی طرح مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی بلاشبہ تعلیم کے میدان میں ایک عظیم انقلاب لے کر آئی ہے۔ آج ایک کلک سے ایک طالب علم چند سیکنڈز میں دنیا بھر کی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ان کو پڑھ کر اپنے پیپرمیں بھی پاس بھی ہو جائے گا لیکن تعلیم صرف معلومات حاصل کرنے یا ڈگری حاصل کرنے کا نام تو نہیں؛ تعلیم دراصل انسان کی شخصیت، کردار، سوچ، رویے اور اخلاق کی تعمیر کا نام ہے۔
مصنوعی ذہانت سوال کا جواب دے سکتی ہے، لیکن یہ کبھی نہیں سمجھا سکتی کہ اس جواب کی روشنی میں ایک بچے کو کیا سوچنا چاہیے، کیسے سوچنا چاہیے اور صحیح و غلط میں فرق کیسے کرنا ہے۔کون سی چیزاپنانابہترہے اور کون سی چیز چھوڑنا ضروری ہے۔ ایک انسانی استاد طالب علم کی صلاحیت، کمزوری، جذبات، ذہنی کیفیت اور سماجی حالات کو سمجھ کر اس کی رہنمائی کرتا ہے۔
استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا بلکہ وہ طالب علم کے لیے ایک رول ماڈل، رہنما، مربی اور سرپرست بھی ہوتا ہے۔ ایک اچھا استاد بچے کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت کو دریافت کرتا، اسے نکھارتا ہے اوراس کی درست سمت میں راہنمائی کرتاہے ۔
میری نظر میں مستقبل کا بہترین تعلیمی نظام وہ ہوگا جہاں استاد اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہوں۔ ٹیکنالوجی استاد کی مدد ضرور کر سکتی ہے، مگر انسانی ہمدردی، محبت، تربیت، کردار سازی اور ذاتی رہنمائی کا مکمل نعم البدل بننا اس کے لیے انتہائی مشکل ہے۔۔
سوال 3: موجودہ دور میں استاد کا کام صرف کتابی معلومات دینا نہیں رہا کیونکہ معلومات ہر جگہ دستیاب ہیں۔ ضیاء صاحب، موجودہ تعلیمی تقاضوں کے مطابق، ایک استاد کا کردار معلومات فراہم کرنے والے سے بدل کر ایک رہنما اور سرپرست کی صورت میں کیسے سامنے آیا ہے
جواب:دور جدید میں ایک استاد کی ذمہ داریاں پہلے کی نسبت کئی گنا بڑھ گئی ہیں ۔اس کی سب سے بڑی ذمہ داری معلومات منتقل کرنا نہیں بلکہ طالب علم کو معلومات کے درست استعمال کا ہنر سکھانا ہے۔ انٹرنیٹ کے دور میں معلومات کی کمی نہیں، بلکہ اصل مسئلہ درست اور غلط معلومات میں فرق کرنا ہے۔
استاد کو چاہیے کہ وہ بچوں میں تنقیدی سوچ،تجسس، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تخلیقی فکر، تحقیق کا ذوق، سوال کرنے کی عادت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت پیدا کرے۔
ایک جدید استاد کلاس روم کو یک طرفہ لیکچر کی جگہ مکالمے، تحقیق، عملی سرگرمیوں اور تجربات کا مرکز بناتا ہے۔ وہ طالب علم کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ “کیا درست ہے” بلکہ اسے یہ بھی سکھاتا ہے کہ کسی بات کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیل اور تحقیق کیسے حاصل کی جاتی ہے۔
اسی طرح استاد ایک سرپرست کے طور پر طالب علم کے تعلیمی مسائل کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت سازی،کردار سازی، اعتماد، اخلاق،اچھے برے میں تمیز اور مستقبل کے انتخاب میں بھی رہنمائی کرتا ہے۔
سوال4: سوشل میڈیا اور سکرین کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے موجودہ دور میں بچوں کی اخلاقی تربیت اور ذہنی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ضیاء صاحب، ایک استاد اسکول کے ماحول میں بچوں کو ان اخلاقی اور ذہنی چیلنجز سے نکالنے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟
جواب:یہ موجودہ دور کا ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ ہرگھرکامسئلہ ہے۔ سوشل میڈیا بذاتِ خود برا نہیں بلکہ کئی حوالوں سے بہت اچھا اور بہت ضروری بھی ہےلیکن اس کا بے اعتدال اور غیر ذمہ دارانہ استعمال بچوں کی توجہ، نیند، پڑھائی، سماجی تعلقات اور ذہنی سکون کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ کررہاہے۔
اس مسئلے کا حل صرف موبائل چھین لینا یا بچے پرزبردستی کرنا نہیں ہے بلکہ بچوں میں ڈیجیٹل شعور اور ذمہ دارانہ استعمال پیدا کرنا ہے۔ استاد بچوں کو یہ سمجھا سکتا ہے کہ ہر آن لائن مواد قابلِ اعتماد نہیں ہوتا، ہر وائرل چیز قابلِ تقلید نہیں ہوتی اور ہر آن لائن تعلق حقیقی زندگی کے تعلق کا نعم البدل نہیں ہوتا۔
اسی طرح سکول میں کھیل، مطالعہ، مباحثہ، تقریری سرگرمیاں، فنونِ لطیفہ، ادبی سرگرمیاں اور باہمی گفتگو کے مواقع بڑھانے چاہییں تاکہ بچے حقیقی زندگی کی سرگرمیوں سے بھی لطف اندوز ہوں۔معاشرے سے کٹ کر زندگی گزارنے کے عادی نہ بن جائیں۔
سب سے بڑھ کر استاد کو ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں طالب علم اپنی پریشانی، خوف یا مسئلہ بلا جھجھک بیان کر سکے۔ اگر کسی بچے میں مسلسل اداسی، تنہائی، شدید بے چینی یا رویے میں نمایاں تبدیلی نظر آئے تو استاد کو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے والدین اور متعلقہ ماہرین تک بات پہنچانی چاہیے۔

سوال5:ضیاء صاحب، آپ بطورِ ضلعی استاد معلم اور ماسٹر ٹرینر کام کر چکے ہیں۔ آپ کے خیال میں موجودہ دور میں اساتذہ کی جدید خطوط پر تربیت کیوں ضروری ہے، اور روایتی تدریس کے مقابلے میں اس کا اسکولوں پر کیا اثر پڑا ہے؟
جواب: مس ثناء آپ ماشاءاللہ میڈیا سے وابستہ ہیں اور یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے،روزمرہ نئے تجربات اور ایجادات ہورہی ہیں تعلیمی میدان کو جدید ٹولز سے آراستہ کیا جارہاہے،تدریس میں بھی ڈھیروں نئی تکنیک کا استعمال ہورہاہے۔ایسے حالات میں استاد کے سیکھنے کا عمل بھی کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ جس طرح ڈاکٹر کو جدید علاج سے آگاہ رہنا پڑتا ہے، اسی طرح استاد کو بھی جدید تدریسی طریقوں، تعلیمی ٹیکنالوجی، نفسیات، تشخیصی طریقوں اور طلبہ کی بدلتی ہوئی ضروریات سے آگاہ ہونا چاہیے۔
جدید تربیت کا مقصد صرف نئی ٹیکنالوجی یا کسی نئی تکنیک کا استعمال سکھانا نہیں بلکہ بہتر تدریسی سوچ پیدا کرنا ہے۔
جدید تربیت یافتہ استاد کلاس میں طلبہ کی انفرادی صلاحیتوں کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے، مختلف تدریسی طریقے استعمال کر سکتا ہے اور صرف امتحان کی تیاری کے بجائے حقیقی سیکھنے پر توجہ دے سکتا ہے۔
اس کا نتیجہ زیادہ فعال کلاس روم، بہتر طلبہ کی شمولیت، تخلیقی سرگرمیوں میں اضافہ اور تدریس کے بہتر معیار کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
سوال:6 ضیاء صاحب، آپ بزمِ ادب سوسائٹی کے انچارج اور خود ایک بہترین مقرر ہیں۔ اسکول اور کالج کی سطح پر بچوں میں عوامی خطابت اور ادبی شعور بیدار کرنا کیوں ضروری ہے؟ یہ چیز ان کی عملی زندگی میں کیا کردار ادا کرتی ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے انسان کو زبان جیسی بڑی نعمت اس لیے دی ہے کہ وہ اپنا مافی الضمیر پیش کرسکے۔اپنی سوچ اور جذبات کا اظہار کرسکے۔کسی بھی حوالے سے آپ کے پاس معلومات اور دلائل کاہوناکافی نہیں ہے آپ کواس کے اظہار کا طریقہ اور سلیقہ بھی آناچاہیے۔اسی طرح ایک طالب علم اگر بہت کچھ جانتا ہو لیکن اپنی بات مؤثر انداز میں بیان نہ کر سکے تو اس کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ پوشیدہ رہ جاتا ہے۔ عوامی خطابت بچوں میں اعتماد، اظہارِ خیال، دلیل، قیادت اور گفتگو کا سلیقہ پیدا کرتی ہے۔
اسی طرح ادب انسان کو صرف الفاظ نہیں سکھاتا بلکہ اسے انسانی جذبات، معاشرے، تاریخ، تہذیب اور زندگی کو سمجھنے کا شعور دیتا ہے۔
تقریری مقابلے، مباحثے، مشاعرے، مضمون نویسی، افسانہ نگاری، ڈرامہ اور مطالعاتی سرگرمیاں طلبہ کی شخصیت میں اعتماد پیدا کرتی ہیں۔ یہی صلاحیتیں آگے چل کر انہیں ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، استاد، افسر، کاروباری شخصیت یا کسی بھی شعبے میں کامیاب انسان بننے میں مدد دیتی ہیں۔
ہمیں ایسے طلبہ پیدا کرنے چاہییں جو صرف اچھے نمبر حاصل نہ کریں بلکہ اچھی بات سوچ، سمجھ اور مؤثر انداز میں بیان بھی کر سکیں۔
سوال7: بطور امتحانی سوالات تیار کرنے والے اور آن لائن ممتحن، آپ امتحانی نظام کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں۔ ضیاء صاحب، رٹہ سسٹم کو ختم کرنے اور بچوں کی اصل قابلیت کو پرکھنے کے لیے ہمارے نظامِ امتحانات میں کیا تبدیلیاں آ رہی ہیں؟
جواب: مس ثناء!روایتی رٹہ سسٹم کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں بعض اوقات طالب علم کی یادداشت کو تو جانچا جاتا ہے لیکن اس کی فہم، تجزیاتی صلاحیت، تخلیقی سوچ اور عملی قابلیت پوری طرح سامنے نہیں آتی۔
اس لیے جدید تعلیمی رجحان ایسے امتحانات اور تشخیصی طریقوں کی طرف ہے جن میں صرف معلومات یاد کرنے کے بجائے تصور کو سمجھنے، مسئلہ حل کرنے، تجزیہ کرنے اور حاصل شدہ علم کو عملی صورت حال پر لاگو کرنے کی صلاحیت جانچی جائے۔
اس سلسلے میں تصوراتی سوالات، عملی سرگرمیاں، پراجیکٹس، پریزنٹیشنز، تحقیقاتی کام اور مسلسل جائزہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تاہم امتحانی نظام میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت اور نصاب میں بھی مناسب تبدیلی ضروری ہے۔ صرف سوالیہ پرچہ بدل دینے سے رٹہ سسٹم ختم نہیں ہوگا؛ ہمیں پورے تعلیمی کلچر کو تبدیل کرنا ہوگا۔ہمیں طلبہ کو ایسا تعلیمی ماحول اور ایسی سہولیات دینا ہوں گی جس میں وہ چیزوں کو سیکھیں اوران کو عملی تجربات کے ذریعے ذہن نشین کرلیں۔اس طرح نہ صرف رٹہ سسٹم کا خاتمہ ہوگا بلکہ طلبہ کی کئی پوشیدہ صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں گی۔۔
سوال8: ضیاء صاحب، عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر، موجودہ معاشرے،
والدین اور حکومت کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے کہ وہ اساتذہ کو وہ مقام، مرتبت اور عزت کیسے لوٹائیں جس کے وہ حقدار ہیں؟
جواب:مس ثناء! یہ بہت اہم سوال پوچھا ہے آپ نے۔یہ ہماری بدقسمتی ہے استاد،طلبہ اورکمیونٹی میں جوایک مضبوط اور پائیدار تعلق تھا وہ آہستہ آہستہ کم ہوتاجارہاہے۔اس گیپ کی وجہ سے اساتذہ کوبھی وہ مقام حاصل نہیں جس کے وہ حقدارہیں۔اس لیے اس گیپ کوکم کیا جانا چاہئے۔
استاد کی عزت صرف ایک دن منانے سے بحال نہیں ہوگی۔ اس کے لیے پورے معاشرے کو اپنے رویے پر غور کرنا ہوگا۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اساتذہ کو بہتر پیشہ ورانہ تربیت، مناسب سہولیات، باوقار کام کا ماحول اور میرٹ پر ترقی کے مواقع فراہم کرے۔ اساتذہ سے بہترین نتائج کی توقع کے ساتھ انہیں وہ وسائل بھی فراہم کیے جانے چاہییں جو اس مقصد کے لیے ضروری ہیں۔
والدین کو بھی چاہیے کہ وہ استاد کو اپنے بچے کا مخالف نہیں بلکہ اپنا شریکِ تربیت سمجھیں۔ اگر استاد اور والدین ایک دوسرے پر الزام لگانے کے بجائے باہمی تعاون کریں تو بچے کا مستقبل کہیں زیادہ بہتر ہو سکتا ہےاور معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ استاد صرف ایک ملازم نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا معمار ہے۔ جس معاشرے میں استاد کی عزت ہوتی ہے وہاں علم، تہذیب اور کردار کی بھی عزت ہوتی ہے۔
سوال9:ضیاء صاحب، اس تعلیمی اور اخلاقی زوال کے دور میں آپ ہمارے اسکولوں اور کالجوں کے طالب علموں کو کامیابی حاصل کرنے اور ایک بہترین انسان بننے کے لیے کیا نصیحت کرنا چاہیں گے؟
جواب: میرا طلبہ کے لیے سب سے پہلا پیغام یہ ہے کہ صرف کامیاب انسان بننے کی کوشش نہ کریں، پہلے اچھا انسان بننے کی کوشش کریں۔ کیونکہ علم اگر کردار کے بغیر ہو تو وہ معاشرے کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
اپنے وقت کی قدر کریں، کتاب سے دوستی کریں، سوال پوچھیں، محنت کریں اور ناکامی سے خوفزدہ نہ ہوں۔کبھی حوصلہ نہ ہاریں۔مشکل اور کٹھن حالات میں مایوسی کی بجائے اپنے لیے راستہ تلاش کریں۔سوشل میڈیا کو اپنی زندگی کا مالک نہ بنائیں بلکہ اسے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کریں۔
اپنے والدین اور اساتذہ کا احترام کریں، اپنی زبان اور تہذیب سے محبت کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں اور اپنی کامیابی کو صرف ذاتی فائدے تک محدود نہ رکھیں۔
یاد رکھیں کہ حقیقی کامیابی صرف اچھی ملازمت یا بڑی دولت کا نام نہیں؛ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے خاندان، معاشرے اور ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔

سوال10: ضیاء صاحب، بچوں کی بہترین تربیت اور ان کے روشن مستقبل کے لیے آپ والدین کو کیا خصوصی مشورہ دیں گے کہ وہ اسکول اور اساتذہ کے
ساتھ مل کر کیا کردار ادا کریں؟
جواب: مس ثناء یہ بات ہم سب کو سمجھنی چاہیے کہ بچے کی تربیت صرف تعلیمی ادارے کی ذمہ داری نہیں اور نہ ہی صرف والدین کی۔ یہ دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کے نمبر پوچھنے کے ساتھ یہ بھی پوچھیں کہ آج اس نے کیا سیکھا، کیا سوچا اور اسے کس چیز میں دشواری پیش آئی۔
والدین اساتذہ کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں، بچے کی کمزوریوں کو چھپانے کے بجائے انہیں دور کرنے کے لیے استاد کے ساتھ تعاون کریں اور گھر میں ایسا ماحول پیدا کریں جہاں مطالعہ، نظم و ضبط اور اخلاقی تربیت کو اہمیت حاصل ہو۔
بچوں کا دوسروں سے مسلسل موازنہ کرنے کے بجائے ان کی اپنی صلاحیتوں کو سمجھنا چاہیے۔ان کی پسند ناپسند کی قدر کرنی چاہیے کہیں وہ غلط ہیں تو سختی اور غصے کی بجائے بہترین انداز میں ان کی راہنمائی کرنی چاہیے۔۔
ہر بچے کی رفتار اور صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔اس لیے بچے کو اس کے مطابق دیکھاجاناچاہیے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو وہ اخلاق سکھائیں جو وہ ان میں دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ بچے نصیحت سے زیادہ والدین کے عمل سے سیکھتے ہیں۔

سوال11: ضیاء صاحب، شعبہ تدریس میں نئے آنے والے نوجوان اساتذہ کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے کہ وہ اس پیشے کو صرف نوکری کے بجائے ایک مقدس مشن کیسے بنائیں ؟
جواب: نئے آنے والے اساتذہ سے میری سب سے پہلی گزارش ہے کہ وہ تدریس کو صرف روزگار کا ذریعہ نہ سمجھیں۔ یہ بلاشبہ ایک پیشہ ہے، لیکن اس کی اصل عظمت اس ذمہ داری میں ہے کہ ایک استاد انسانوں کی آنے والی نسلوں کی تعمیر کرتا ہے۔
آپ کی کلاس میں بیٹھا ہوا کوئی طالب علم مستقبل کا ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، ادیب، افسر، سیاست دان یا استاد بن سکتا ہے۔ ممکن ہے وہ طالب علم آج کمزور ہو، لیکن آپ کا ایک حوصلہ افزا جملہ ،آپ کی ایک تھپکی اس کی پوری زندگی کا رخ بدل دے۔
اس لیے ہر بچے کو عزت دیں، کمزور طالب علم کو نظر انداز نہ کریں، اپنی تدریس کو مسلسل بہتر بنائیں اور خود بھی ہر روز کچھ نیا سیکھیں۔
ایک عظیم استاد وہ نہیں جو صرف بہت زیادہ علم رکھتا ہو؛ عظیم استاد وہ ہے جو اپنے علم سے دوسروں کی زندگی میں روشنی پیدا کرے۔
ایسے تما اساتذہ کے لیے میرا پیغام ہےکہ”اپنی کلاس کو صرف کمرۂ جماعت نہ سمجھیں، اسے قوم کی تعمیر کی ورکشاپ سمجھیں؛ اپنے طلبہ کو صرف رول نمبر نہ سمجھیں، انہیں مستقبل کے انسان سمجھیں؛ اور اپنی تدریس کو صرف ملازمت نہ سمجھیں، اسے ایک ذمہ داری، عبادت اور قومی خدمت کا ذریعہ بنائیں۔
آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گا کہ قوموں کی تقدیر صرف ایوانوں میں نہیں بلکہ کلاس رومز میں بھی لکھی جاتی ہے، اور اس تقدیر کے قلم کا ایک اہم حصہ استاد کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

-بہت شکریہ ضياء صاحب آپ کی بصیرت انگیز گفتگو کا



