ہر سال 3 مئی کو عالمی یومِ آزادیٔ صحافت منایا جاتا ہے۔ یونیسکو کے مطابق یہ دن حکومتوں کو یاد دلاتا ہے کہ وہ آزادیٔ صحافت کے وعدے کا احترام کر صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ اصولوں پر غور کا موقع دے، اور اُن صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرے جنہوں نے خبر کی تلاش میں جان گنوائی۔
عالمی سطح پر اس دن کا عنوان “پُرامن مستقبل کی تشکیل” رکھا گیا ہے۔
پاکستان میں آزادیٔ صحافت کی کہانی صرف اخبارات، ٹی وی چینلز یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی کہانی نہیں؛ یہ اُن رپورٹرز کی کہانی ہے جو چھوٹے شہروں میں طاقتور لوگوں کے خلاف خبر لکھتے ہیں، اُن کیمرہ مینوں کی کہانی ہے جو احتجاج کے دوران لاٹھی چارج کے بیچ تصویر بناتے ہیں، اور اُن خاندانوں کی کہانی ہے جو ہر رات اپنے صحافی بیٹے، بیٹی، شوہر یا والد کی واپسی کا انتظار کرتے ہیں۔
آزادی کے بعد: وعدہ بھی، دباؤ بھی
1947 میں پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی صحافت نے ریاست، سیاست اور معاشرے کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کیا۔ لیکن یہ پل ہمیشہ مضبوط نہیں رہنے دیا گیا۔
صحافیوں کی عالمی تنظیموں کے مطابق پاکستان اپنی تخلیق کے بعد سے ہی سول سوسائٹی کی آزادیٔ صحافت کی خواہش اور سیاسی و عسکری اشرافیہ کے میڈیا پر وسیع کنٹرول کے درمیان پھنسا رہا ہے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی اور پریس کی آزادی دیتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ آزادی معقول پابندیوں سے مشروط ہے، جیسے سلامتی، دفاع، امنِ عامہ، اخلاقیات، توہینِ عدالت اور دیگر ریاستی مفادات۔
یہی مشروط زبان پاکستان میں آزادیٔ صحافت کی بحث کا مرکزی نکتہ رہی ہے: حق موجود ہے، مگر اس کی حدود اکثر طاقتور ادارے طے کرتے ہیں۔
آمریتوں کا دور: سنسرشپ، کوڑے اور خاموشی
پاکستانی صحافت نے خاص طور پر فوجی ادوار میں سخت دباؤ دیکھا۔
جنرل ایوب خان کے دور میں پریس اور اشاعت آرڈیننس جیسے قوانین نے اخبارات کو حکومتی نگرانی اور دباؤ کے دائرے میں رکھا۔
جنرل ضیاء الحق کا دور پاکستانی صحافت کے لیے سب سے سخت ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ 13 مئی 1978 کو آزادیٔ صحافت کے لیے احتجاج کرنے والے صحافیوں کو فوجی عدالتوں سے سزائیں دی گئیں۔ گیارہ صحافیوں کو سزا ہوئی اور چار صحافیوں کو کوڑوں کی سزا دی گئی۔
یہ واقعہ آج بھی پاکستان کی صحافتی تاریخ میں جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔
یہ صرف چند افراد کی سزا نہیں تھی؛ یہ پورے معاشرے کو پیغام تھا کہ سچ بولنے کی قیمت ہے۔ مگر اسی دور نے یہ بھی ثابت کیا کہ صحافت صرف خبر نہیں، ضمیر بھی ہے۔
نجی میڈیا کا پھیلاؤ: آوازیں بڑھیں، خطرات بھی بڑھے
2002 کے بعد پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کا پھیلاؤ تیزی سے ہوا۔
پیمرا کو نجی الیکٹرانک میڈیا کو سہولت دینے اور منظم کرنے کے لیے قائم کیا گیا۔ اس کے بعد ٹی وی چینلز، ریڈیو اسٹیشنز اور نجی میڈیا ہاؤسز کی تعداد بڑھی۔
پاکستان میں تقریباً 100 ٹی وی چینلز اور 200 سے زائد ریڈیو اسٹیشنز موجود ہیں، جبکہ اردو، انگریزی اور علاقائی زبانوں میں اخبارات و رسائل بھی شائع ہوتے ہیں۔
یہ پھیلاؤ بظاہر آزادی کی علامت تھا۔ عوام کے پاس زیادہ آوازیں آئیں، ٹاک شوز نے سیاسی بحث کو عام کیا، اور کرپشن، بدانتظامی، انسانی حقوق اور عوامی مسائل پر رپورٹنگ بڑھی۔
لیکن ساتھ ہی ایک نیا مسئلہ پیدا ہوا:
میڈیا کی کمرشل وابستگیاں
سرکاری اشتہارات پر انحصار
ریگولیٹری دباؤ
غیر اعلانیہ سنسرشپ
صحافیوں کی جان کا خطرہ: اعداد و شمار کا دردناک چہرہ
پاکستان میں آزادیٔ صحافت کی سب سے تکلیف دہ حقیقت صحافیوں کے خلاف تشدد اور قتل ہے۔
صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیموں کے مطابق 1992 سے اب تک پاکستان میں کم از کم 39 صحافی اپنے کام کی وجہ سے قتل کیے گئے۔
2024 کی رپورٹس کے مطابق میڈیا پریکٹیشنرز کے خلاف دھمکیاں، حملے، قانونی ہراسانی اور قتل کے متعدد واقعات سامنے آئے۔
صوبائی سطح پر رپورٹ شدہ کیسز:
سندھ: 37 فیصد
پنجاب: 23 فیصد
اسلام آباد: 21 فیصد
خیبر پختونخوا: 12 فیصد
بلوچستان: 3.5 فیصد
یہ اعداد و شمار خشک نہیں ہیں۔ ہر عدد کے پیچھے ایک گھر ہے، ایک ماں ہے، ایک بیوی ہے، ایک بچہ ہے، اور ایک ادھوری خبر ہے۔
ڈیجیٹل دور: نئی آوازیں، نئی پابندیاں
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل صحافت نے پاکستان میں صحافت کا دائرہ بڑھایا۔
اب خبر صرف بڑے نیوز رومز سے نہیں آتی؛ یوٹیوبرز، وی لاگرز، آزاد صحافی اور شہری رپورٹرز بھی خبر کا حصہ ہیں۔
مگر ڈیجیٹل آزادی کے ساتھ یہ مسائل بھی بڑھے:
ڈیجیٹل نگرانی
پلیٹ فارم بندش
قانونی نوٹسز
آن لائن ہراسانی
الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون 2016 آیا، مگر ناقدین کے مطابق اسے آن لائن اظہارِ رائے محدود کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
اصل چیلنج یہ ہے کہ غلط معلومات کا مقابلہ بھی ہو، مگر سچ بولنے والوں کو خاموش بھی نہ کیا جائے۔
عالمی درجہ بندی: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
عالمی آزادیٔ صحافت اشاریہ 2026 میں پاکستان کا درجہ 153 میں سے 180 ہے، جبکہ 2025 میں پاکستان 158 پر تھا۔
یہ معمولی بہتری ضرور ہے، مگر مجموعی تصویر اب بھی تشویش ناک ہے۔
یہ درجہ بندی بتاتی ہے کہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی صرف قانونی مسئلہ نہیں بلکہ:
سیاسی مسئلہ
معاشی مسئلہ
سماجی مسئلہ
سلامتی کا مسئلہ
بھی ہے۔
قانون موجود ہے، عمل درآمد کمزور ہے
2021 میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کا قانون منظور کیا گیا، جس کا مقصد صحافیوں کو تحفظ دینا تھا۔
لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ:
حفاظتی کمیشنز کمزور ہیں
مقدمات سست ہیں
دھمکی پہلے پہنچتی ہے، تحفظ بعد میں
یہی پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے۔
انسانی پہلو: ایک رپورٹر کی خاموش ڈیوٹی
پاکستان کے کسی چھوٹے شہر کا تصور کریں۔
ایک مقامی رپورٹر موٹر سائیکل پر نکلتا ہے۔ اس کے پاس بڑا نیوز روم نہیں، سکیورٹی نہیں، قانونی ٹیم نہیں۔
وہ کسی زمین پر قبضے، کسی مقامی کرپشن، کسی پولیس زیادتی یا کسی سیاسی دباؤ کی خبر کرتا ہے۔
خبر چھپنے کے بعد فون آتا ہے:
“باز آ جاؤ۔”
پھر اشتہار بند ہوتا ہے، پھر مقدمہ بنتا ہے، پھر دھمکی آتی ہے، اور کبھی کبھی گولی چل جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آزادیٔ صحافت صرف آئینی شق نہیں رہتی؛ یہ زندگی اور موت کا سوال بن جاتی ہے۔
آگے کا راستہ: آزادی ذمہ داری کے ساتھ، تحفظ قانون کے ساتھ
1. صحافیوں کے قتل اور حملوں کے مقدمات کی آزادانہ تحقیقات
2. 2021 قانون کا حقیقی نفاذ
3. فعال صحافی تحفظ کمیشنز
4. سرکاری اشتہارات کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر روکنا
5. ڈیجیٹل قوانین میں شفاف اور انسانی حقوق سے ہم آہنگ ترامیم
6. رپورٹرز کے لیے انشورنس، قانونی مدد، فیلڈ سیفٹی
7. فیک نیوز چیکنگ اور ڈیجیٹل سکیورٹی تربیت
اختتامیہ
عالمی یومِ آزادیٔ صحافت پر پاکستان کو صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ ہماری رینکنگ کیا ہے؛ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے:
کیا ایک رپورٹر محفوظ ہے؟
کیا ایک کیمرہ مین بغیر خوف کے کام کر سکتا ہے؟
کیا ایک خاتون صحافی آن لائن کردار کشی کے بغیر رائے دے سکتی ہے؟
کیا ایک مقامی صحافی طاقتور افراد کے خلاف خبر لکھ کر گھر واپس آ سکتا ہے؟
آزادیٔ صحافت ریاست کے خلاف نہیں؛ ریاست کو بہتر بنانے کے لیے ہے۔
صحافی دشمن نہیں؛ وہ عوام کی آنکھ، کان اور کبھی کبھی ضمیر ہوتے ہیں۔
جس ملک میں صحافی محفوظ نہ ہوں، وہاں سچ بھی غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔


